واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا
Ibraheem Aajizواہ کیا خوب مہ لقا دیکھا
جلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھا
وہ عیاں تھا تو شے نہیں دیکھا
جب ہوئی شے عیاں تو کیا دیکھا
وحدت صرف آئی کثرت میں
پردہ اس پر پڑا ہوا دیکھا
دیر میں ہے نہ وہ حرم میں ہے
لیکن اس کو ہر ایک جا دیکھا
سر کہا جس نے سر گیا اس کا
عارفوں نے یہ آزما دیکھا
بحر کوزے میں کب سماتا ہے
عقل کا تنگ حوصلہ دیکھا
دید ہے جس کی عین بینائی
نہیں دیکھا اسے تو کیا دیکھا
ابن مریم سے بھی تو کچھ نہ ہوا
درد دل ہائے لا دوا دیکھا
بادشاہی میں وہ کہاں حاصل
فقر میں ہم نے جو مزا دیکھا
بلبل خوش نوا کو اے عاجزؔ
گل و گلزار سے جدا دیکھا