کر برا تو بھلا نہیں ہوتا
Ibn-e-Muftiکر برا تو بھلا نہیں ہوتا
کر بھلا تو برا نہیں ہوتا
اک وہی لاپتہ نہیں ہوتا
جس کو اپنا پتا نہیں ہوتا
سب نشانے اگر صحیح ہوتے
تیر کوئی خطا نہیں ہوتا
کون عاشق ہے کون ہے معشوق
پیار میں فیصلہ نہیں ہوتا
کوئی ایسی جگہ ہی دکھلاؤ
جس جگہ پر خدا نہیں ہوتا
کوچۂ یار جو نہ جاتا ہو
راستہ راستہ نہیں ہوتا
کامیابی کے راستوں کی طرف
بیچ کا راستا نہیں ہوتا
ساری دنیا تو ہو گئی میری
اک فقط تو مرا نہیں ہوتا
دل نظر پر اگر نظر رکھتے
پیار کا حادثہ نہیں ہوتا
جب تلک تو نہ ہو خیالوں میں
کوئی سجدہ روا نہیں ہوتا
اس کی مخمور آنکھ کے آگے
مے کدہ مے کدہ نہیں ہوتا
کوششیں خود ہی کرنا پڑتی ہیں
بھیڑ میں راستہ نہیں ہوتا
ایک عرصہ ہوا کہ نیند سے بھی
آمنا سامنا نہیں ہوتا
پیار ہو جائے کب کہاں کس سے
یہ کسی کو پتا نہیں ہوتا
ہم نے دیکھا ہے روبرو ان کے
آئینہ آئینہ نہیں ہوتا
صدقہ خیرات کیجئے صاحب
مسکرانا برا نہیں ہوتا
کیا کرامت بھی اب نہیں ہوگی
مانا اب معجزہ نہیں ہوتا
ہاتھ مشکل میں چھوڑ جاتے ہو
یہ تو پھر تھامنا نہیں ہوتا
پہلے نظریں اٹوٹ تھیں اور اب
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
مفتیؔ ہم ہی بھنور نصیب رہے
ورنہ ساحل پہ کیا نہیں ہوتا