حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے
Ibraheem Aajizحوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے
مثل یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلے
مر مٹے جو تری الفت میں وہ آزاد ہوئے
جیتے جی بند سے وہ رنج و محن کے نکلے
میں تو خوش ہو کے عوض اس کے دعائیں دوں گا
منہ سے دشنام جو اس غنچہ دہن کے نکلے
گالیاں دے کے تو کر پیار سے باتیں اے شوخ
ہم تو شیدا ترے انداز سخن کے نکلے
سرفروشوں کو خبر دو سر مقتل آئیں
ہاتھ میں تیغ لئے آج وہ تن کے نکلے
سرو و شمشاد و صنوبر جو کھڑے ہیں لب جو
علم سبز ہیں ماتم میں حسن کے نکلے
گھر سے ہم اپنے گناہوں کی حیا سے عاجزؔ
منہ چھپائے ہوئے گھونگھٹ میں کفن کے نکلے