وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپنا

Ibraheem Aajiz

وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپنا

تو اے کلیم کریں ہم نثار سر اپنا

وہ ذات پاک کہاں یہ نگار خاک کہاں

جو دیکھے اس کو ذرا دیکھے منہ بشر اپنا

کہیں خزاں ہی بنا وہ کہیں بہار بنا

غرض ہر ایک چمن میں کیا گزر اپنا

بسا ہے میری ہی آنکھوں میں کچھ نہیں وہ شوخ

دلوں میں سب کے بنایا ہے اس نے گھر اپنا

حریم کعبہ میں بت خانہ میں کلیسا میں

بنائے قبلہ تمہیں صاحب نظر اپنا

مقام عبرت و حسرت سرائے فانی ہے

بنا لیا ہے جسے غافلوں نے گھر اپنا

گہر نہ سمجھو ان اشکوں کو ہیں یہ لعل سپید

دکھا رہی ہے یہ اعجاز چشم تر اپنا

سمجھ کے عیب کریں گے حسود مجھ پر طعن

یہی ہے سوچ دکھاؤں کسے ہنر اپنا

فنا کی راہ میں وہ گرم رو ہوں اے عاجزؔ

کہ سایہ بھی نہیں واللہ ہم سفر اپنا