ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے

Ibn-e-Mufti

ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے

پھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے

کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں

نیند میری خواب سارے آپ کے

ہم سے شاید معتبر ٹھہری صبا

جس نے یہ گیسو سنوارے آپ کے

آپ کی نظر کرم کے منتظر

کب سے بیٹھے ہیں دوارے آپ کے

کوئی اس کی آنکھ کو بھائے گا کیوں

جس نے دیکھے ہوں نظارے آپ کے

بن ترے سانسیں بھی اب چلتی نہیں

ہر گھڑی چاہیں، اشارے آپ کے

مسکرا کر دیکھیے تو ایک بار

کہکشاں، یہ چاند تارے آپ کے

جھوٹ ہے مفتیؔ بھلا بیٹھے ہو سب

کیوں تھے پلکوں پر ستارے آپ کے