زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات

Ibraheem Aajiz

زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات

پیش نظر رہا رخ دلبر تمام رات

کس سے کہوں کٹی مری کیوں کر تمام رات

تڑپا کیا مرا دل مضطر تمام رات

بیٹھا رہا ہوں شام سے اکثر تمام رات

گنتا رہا ہوں ہجر میں اختر تمام رات

ایسا بندھا تصور ابرو کہ خواب میں

کاٹا کیا گلا دم خنجر تمام رات

کیا جانتا ہے وحشت شبہائے تار کو

کاٹی ہو جیسے شمع جلا کر تمام رات

ہو گرچہ بے نوا وہی سلطان وقت ہے

جس کو ہے وصل یار میسر تمام رات

اے عاجزؔ ان کی کیوں نہ دعا مستجاب ہو

کرتے ہیں جو عبادت داور تمام رات