ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو

Ibraheem Aajiz

ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو

کب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کو

کس طرح کا سم قاتل ہے یہ شربت عشق کا

جان شیریں زہر آخر ہو گئی فرہاد کو

رحم جب کرتا نہیں نالوں سے پھر کیا فائدہ

درد مندی بلبل نالاں سے کیا صیاد کو

کیسے وہ خوش فہم ہیں پتھر پڑے اس فہم پر

جو جہان آباد سمجھے اس خراب آباد کو

اک تعلق سے ہزاروں رنج ہوتے ہیں نصیب

فکر کرتے کس نے دیکھا ہے کسی آزاد کو

جانتے ہیں جزو ہے ایمان کا حب وطن

بے طرح بھولے وطن ہیں کیا ہوا استاد کو

نالہ و زاری میں اے عاجزؔ تو کیوں مصروف ہے

کون سنتا ہے ارے ناداں تری فریاد کو