بالیقیں پیکر شباب ہے وہ

Jagdeesh Raj Figar

بالیقیں پیکر شباب ہے وہ

جس کی نظروں کا انتخاب ہے وہ

ایک خاکی ہوں میں تو گرد آلود

میرے چہرے کی آب و تاب ہے وہ

آگ سی دھوپ میں ہوں محو سفر

چھاؤں بن کر جو ہم رکاب ہے وہ

میں جو محدود ہوں تلاطم تک

میرے ادراک میں حباب ہے وہ

پھر بھی لازم مطالعہ میرا

یوں تو اک باب ہوں کتاب ہے وہ

اس کی جانب سبھی رجوع کریں

کل سوالات کا جواب ہے وہ

جس کی تعبیر ہے اسی کے پاس

میری ہستی کا ایسا خواب ہے وہ

اس کی تصدیق آسمان کرے

ریگ زاروں کا کیا سحاب ہے وہ

جس کی بو باس ہر بدن میں ہے

گلشن زیست کا گلاب ہے وہ

یہ تمہاری نظر کا دھوکا ہے

ایک صحرا ہوں میں سراب ہے وہ

اشک سے ہو کہ خون سے نسبت

ایک اک بوند کا حساب ہے وہ

اس کا کوئی تو ہو ثبوت فگارؔ

کون مانے گا انقلاب ہے وہ