میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھا

Jagdeesh Raj Figar

میں نے جب تب جدھر جدھر دیکھا

اپنی صورت کا ہی بشر دیکھا

ریت میں دفن تھے مکان جہاں

ان پہ مٹی کا بھی اثر دیکھا

جب سکونت تھی میری برزخ میں

نیک روحوں کا اک نگر دیکھا

جو برہنہ مدام رہتا تھا

میں نے ملبوس وہ شجر دیکھا

اپنے مسلک پہ گامزن تھا جب

روشنی کو بھی ہم سفر دیکھا

مجھ پہ تھا ہر وجود کا سایہ

دھوپ کو جب برہنہ سر دیکھا

مجھ کو احساس برتری کا ہوا

رفعتوں کو جب اک نظر دیکھا

جس کی توہین کی ستاروں نے

میں نے ایسا بھی اک قمر دیکھا

اس کے رخ پر مرا ہی پرتو تھا

میں نے جس کو بھی اک نظر دیکھا

اس کی روداد بوم سے پوچھو

جو بھی کچھ اس نے رات بھر دیکھا

میری چڑیوں سے تھی رفاقت کیا

صاف ستھرا جو اپنا گھر دیکھا

دیکھنا تھا کہ دیو سا بھی ہوں

چڑھ کے کندھوں پہ اپنا سر دیکھا

آتما سے جو رابطہ تھا مرا

ذات اپنی میں ایشور دیکھا

بحر و بر سے وہ مختلف تھا فگارؔ

میں نے منظر جو اوج پر دیکھا