سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوں

Ibraheem Aajiz

سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوں

کون سنتا ہے مرا حال پریشاں ان دنوں

ہو رہا ہوں محو دید روئے جاناں ان دنوں

کیوں نہ ہوں پھر صورت آئینہ حیراں ان دنوں

مصحف رخ نور افشانی سے بیضاوی ہوا

ہو گئے کیا متحد تفسیر و قرآں ان دنوں

صاحت دل آئنہ ہے اور آنکھیں دوربیں

کیوں نظر آتا نہیں پھر روئے جاناں ان دنوں

رات دن گوشے میں کب تک عشق لیلائے جمال

بن کے مجنوں کیجئے سیر بیاباں ان دنوں

اب سکندر پور رشک خطہ شیراز ہے

لائے ہیں تشریف استاد سخنداں ان دنوں

لکھنؤ کی شاعری منسوخ ہے اس دور میں

رشک ناسخؔ ہے ہر اک طفل‌ دبستاں ان دنوں

شاعران دہر کو اب ہے پریشانی نصیب

کرتے ہیں استاد اکمل جمع دیواں ان دنوں

اک جگہ رہنے نہیں دیتی زمانے کی ہوا

ہو رہا ہوں مثل اوراق پریشاں ان دنوں

رات دن عاجزؔ نوازی ان کو اب منظور ہے

کیوں نہ ہو پھر بستۂ زنجیر احساں ان دنوں