غلط فہمی کی سرحد پار کر کے

Ibn-e-Mufti

غلط فہمی کی سرحد پار کر کے

مٹا دو فاصلے ایثار کر کے

یہ کاروبار بھی کب راس آیا

خسارے میں رہے ہم پیار کر کے

لگیں صدیاں بنانے میں جو رشتے

وہ اک پل میں چلے مسمار کر کے

گلے مل کر ہی دوری دور ہوگی

ملے گا کیا ہمیں تکرار کر کے

سگے بھائی بھی اب اک چھت کے نیچے

وہ رہتے ہیں مگر دیوار کر کے

مسائل ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں

گلوں کا برملا اظہار کر کے

گنوا دی عزت سادات مفتیؔ

محبت میں نگاہیں چار کر کے