آدمی تھا کیا وہی اک کام کا

Jagdeesh Raj Figar

آدمی تھا کیا وہی اک کام کا

ارض پر جس کا کوئی مسکن نہ تھا

جو کسی نے پیرہن مجھ کو دیا

وہ مرے ہی تن کا حصہ بن گیا

ہم تھے جڑواں اس لئے تن ایک تھا

ایک سرجن نے الگ ہم کو کیا

جل میں جب تک میں رہا زندہ رہا

تٹ پہ ساگر کے میں آ کر مر گیا

جب کبھی میں سوچنے کچھ لگ پڑا

دور تک پھر سلسلہ چلتا رہا

میں زمیں پر اک طرح کا بوجھ تھا

وہ تو ماں تھی اس کو یہ سہنا پڑا

وجد میں آتا کبھی تو پیڑ کی

ٹہنیوں پر چڑھ کے اکثر جھولتا

تھا میں سالک اک انوکھا دہر میں

جو بھی مسلک مل گیا میں چل پڑا

عالم جبروت کا ساکن تھا میں

عالم سفلی میں کیسے آ گیا

حادثے کو روکنا تھا اس لئے

راستے پر ہو گیا جا کر کھڑا

بند کرتے تھے کبھی تھے کھولتے

روپ دروازے کا مجھ کو کیا ملا

لیٹ جاتا پیٹھ کے بل فرش پر

دیکھ لیتا جب بھی آتے میں قضا

جو سماوی تھے قمر پر جا بسے

میں تھا خاکی دہر میں ہی رہ گیا

مجھ کو دینا تھا فگارؔ ان کا جواب

چٹھیوں کا سامنے انبار تھا