نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

Ibraheem Aajiz

نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

جہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دلربائی کا

جبین مہر و مہ میں کیا سبب اتنی صفائی کا

انہیں بھی شغل ہے کیا تیرے در پر جبہ سائی کا

لہو کی ندیاں ایام فرقت میں بہاتا ہوں

خیال آتا ہے جب مجھ کو ترے دست حنائی کا

وفا کی ہو کسی کو تجھ سے کیا امید او ظالم

کہ اک عالم ہے کشتہ تیری طرز بے وفائی کا

یہی رہ رہ کے آتا ہے ہمارے دل میں اے عاجزؔ

حسینوں کے دروں پر کیجئے پیشہ گدائی کا