تپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہے
Jagdeesh Raj Figarتپش سے بھاگ کر پیاسا گیا ہے
سمندر کی طرف صحرا گیا ہے
کنواں موجود ہے جل بھی میسر
وہ میرے گھر سے کیوں تشنہ گیا ہے
دوبارہ روح اس میں پھونک دو تم
بدن جو پھر اکیلا آ گیا ہے
زماں اپنی روش پر تو ہے قائم
مگر لمحات میں فرق آ گیا ہے
سفر میں تازہ دم ہوگا وہ کیسے
جو گھر ہی سے تھکا ماندہ گیا ہے
بنا ہوگا خس و خاشاک سے وہ
جو نبھ جلتا ہوا دیکھا گیا ہے
مجھے لہروں کی کشتی پر بٹھا کر
بھنور کی کھوج میں دریا گیا ہے
زمیں سے بھی توقع کچھ ہے ایسی
دماغ چرخ جب چکرا گیا ہے
جو اترا عرش کا اک ایک طبقہ
زمیں پر دائرہ بنتا گیا ہے
نہ فکر ورطہ تھی اس کو ذرا بھی
وہ کشتی زیست کی کھیتا گیا ہے
فگارؔ اس میں وجود اس کا ملے گا
جو جویاں بحر کا قطرہ گیا ہے