آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
Aalam Nizami (b. 1984)آنگن کے درختوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
دنیا میں بزرگوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
حق چھین کے لیتی ہے یہاں چرب زبانی
خاموش پرندوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستار ہے دنیا
مٹی کے چراغوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
ہر آتش نمرود کو گلزار بنانا
خالق کے خلیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
عیار قلم کاروں کی خاطر ہیں خطابات
خوددار ادیبوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
مجرم کو عدالت سے دلا دینا رہائی
عالمؔ یہ وکیلوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے