راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گے

Aalam Nizami (b. 1984)

راکھ ماضی کی کریدو گے تو کیا پاؤ گے

کوئی چنگاری نکل آئی تو جل جاؤ گے

ایک قطرہ بھی اگر ہو تو بچا کر رکھنا

خون کا قحط پڑے گا تو کہاں جاؤ گے

ہو لگی مغربی تہذیب کی مہندی جس میں

کیسے اس ہاتھ سے تلوار اٹھا پاؤ گے

جس سے وابستہ ہے اجداد کی عظمت کا بھرم

اس حویلی کو جو بیچو گے تو پچھتاؤ گے

عہد حاضر میں وفاؤں کا نتیجہ کیا ہے

تم جو عالمؔ سے ملو گے تو سمجھ جاؤ گے