یہ دل بھی ڈوب گیا سیڑھیاں اترتے ہوئے
Tahir Baloch (b. 1983)یہ دل بھی ڈوب گیا سیڑھیاں اترتے ہوئے
سنی نہ کوئی صدا سیڑھیاں اترتے ہوئے
خوشی خوشی میں تجھے چھوڑ کر تو آیا مگر
بہت اداس ہوا سیڑھیاں اترتے ہوئے
کہیں یہ تیری سکھائی ہوئی تو آئی نہیں
الجھ رہی ہے ہوا سیڑھیاں اترتے ہوئے
اسے بھی ترک تعلق کا ہو کوئی احساس
وہ لوٹ آئے خدا سیڑھیاں اترتے ہوئے
وہ اب گلی میں کہیں غم زدہ کھڑا ہوا ہے
جو ہنس رہا تھا بڑا سیڑھیاں اترتے ہوئے