دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتا

Aalam Nizami (b. 1984)

دانستہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرتا

فنکار ہوں توہین محبت نہیں کرتا

کیا راس اسے آئے گی دستار فضیلت

جو اپنے اصولوں کی حفاظت نہیں کرتا

اس دور میں ہم اس کو فرشتہ ہی کہیں گے

فاقوں میں جو غیرت کی تجارت نہیں کرتا

طوفان سے لڑنے کا اگر شوق نہ ہوتا

میں عظمت ساحل سے بغاوت نہیں کرتا

شاید ہے عزیز اس کو مری مفلسی عالمؔ

وہ میرے مقدر کی مرمت نہیں کرتا