رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسے
Aalam Nizami (b. 1984)رنگ ایثار کے چہرے کا نکھرتا کیسے
زخم احباب نہ دیتے تو سنورتا کیسے
مری قسمت میں بلندی کا سفر لکھا تھا
سازش وقت سے پستی میں اترتا کیسے
حوصلہ تھا مرا مضبوط پہاڑوں کی طرح
ٹوٹ کر تنکوں کی مانند بکھرتا کیسے
سایہ تھا ہی نہیں مالی کا چمن کے سر پر
رنگ پھولوں کا یتیمی میں نکھرتا کیسے
مدتوں رہنا تھا جس پیڑ کے سائے میں مجھے
اس کی شاخوں کو بتاؤ میں کترتا کیسے
میں نے چاہا تھا ذرا دیر وہ ٹھہرے عالمؔ
وہ تو بہتا ہوا دریا تھا ٹھہرتا کیسے