زمیں پہ چاند کا پرتو ذرا سا سہما تھا
Ehtisham Ali (b. 1983)زمیں پہ چاند کا پرتو ذرا سا سہما تھا
خزاں نے شاخ سے جب پہلا پھول توڑا تھا
سنہری دھوپ جو بہتی تھی اس کے ماتھے پر
اسی میں رنگ تمنا کا ایک سایہ تھا
ہم ایک شہر میں تھے اک ندی کی دوری پر
اور اس ندی میں کوئی اور وقت بہتا تھا
یہ جس ٹریک پہ پھولوں کے نقش ملتے ہیں
وہ ایک شام اسی راستے سے گزرا تھا
یہ شہر دوسرا ہے جس میں نیند ٹوٹی ہے
وہ گھر کہاں ہے جہاں رات تھک کے سویا تھا