ساری رات کا جاگا تھا میں

Ehtisham Ali (b. 1983)

ساری رات کا جاگا تھا میں

اور برکھا کی بھیگی صبح میں

تیری یاد کی چادر اوڑھ کے

آنکھ لگی تھی

اٹھ کر دیکھا جب تو

سورج آگ کا گولا دہک رہا تھا

گھاس پہ نم کا ہلکا سا بھی

نقش نہیں تھا

دن پہ پچھلی رات کے

خواب کی

ایک بھی چھینٹ نہیں تھی باقی

دھوپ ہرے دالان میں بیٹھی

اونگھ رہی تھی

جسم کی چھال پہ

کھدے ہوئے کچھ نام نہیں تھے

ان کی جگہ کچھ زنگ لگے سے

کیل ٹنگے تھے

جن پہ پچھلی رات کی یادیں

یوں اٹکی تھیں

جیسے بے آباد گھروں پر

زنگ لگے تالے لٹکے ہوں