ہم
Ehtisham Ali (b. 1983)ہم
آخری بار کسی
خواب میں ملے تھے
لیکن
شراب شہد
اور پنیر کا ذائقہ بھی
الوداعی بوسے کی لذت
دھندلا نہیں سکا
تم سے
بچھڑنے کے بعد
میں نے
کبھی
آنسوؤں پر
برائے فروخت کا ٹیگ نہیں لگایا
اور
اپنے
قہقہوں کا کھوکھلا پن
ساری زندگی
جرعہ جرعہ پیتا رہا
تمہاری آنکھیں
کسی فراموش شدہ
اسٹیشن کے بک اسٹال پر ٹنگی
رہ گئیں
اور باتیں
خامشی کے طاقچوں میں جلتی رہیں
ادھورے عہد ناموں پہ لکھے نام
تاریخ کی یاد داشت
سے محو ہو جاتے ہیں
لیکن ایک نظم
انہیں زندہ رکھ سکتی ہے