ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں
Tahir Baloch (b. 1983)ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں
اور پھر اتنے اشک بہے کہ جتنا پانی دریا میں
ایک محبت کچے گھڑے پر جب سے تیر کے آئی ہے
موجیں لکھا کرتی ہیں ہر روز کہانی دریا میں
تھک جاؤ تو رستہ بدلو اپنی اپنی ناؤ کا
کیا دریا سے لڑنا اور کیا آگ لگائی دریا میں
شاید کوئی اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہوئی
ایک چنریا بہتے دیکھی کل شب دھانی دریا میں
طاہرؔ خیر ہو سب کی لیکن کچھ انہونی لگتی ہے
جنگل میں کتنی ہلچل کتنی ویرانی دریا میں