مستقبل کی آنکھ پہن کے درست اندازہ روئے تھے

Yasir Iqbal (b. 1983)

مستقبل کی آنکھ پہن کے درست اندازہ روئے تھے

باسی شہر پہ رونے والے بالکل تازہ روئے تھے

یادوں کی زنبیل کھلی تو چوکھٹ حسرت‌ ناک ہوئی

کچھ لمحے دیوار سے لپٹے کچھ دروازہ روئے تھے

برس رہی تھی باغ عدن سے چھم چھم غم کی ہریالی

پیڑ فلک کے دروازے پر یک آوازہ روئے تھے

کاجل کاجل بہتے گئے تھے سرخ سویر کے ڈورے میں

آنکھ میں کچھ خوابوں کے چہرے غازہ غازہ روئے تھے

پیلے پات اتر آئے تھے سبز کتاب کے ماتم میں

کچھ بکھرے اوراق پہ تڑپے کچھ شیرازہ روئے تھے

نسلوں کے سیلاب کے آگے کوئی منڈیر نہ ٹھہری تھی

بستی کے منہ زور ٹھکانے بے دروازہ روئے تھے

کس کی شہ پر فصل ہنسی تھی کون نصیبے والا تھا

ہم تو کورے صحراؤں پر بے خمیازہ روئے تھے