شام کی شاخ شکستہ برقرار نغمہ ہے
Yasir Iqbal (b. 1983)شام کی شاخ شکستہ برقرار نغمہ ہے
رنگ سینچا یا کسی نے سر بکھیرا چار سو
پردۂ پرداز پر نقش و نگار نغمہ ہے
آبشار خامشی ہے کوہساروں سے ادھر
خاکساروں کے یہاں جو انتظار نغمہ ہے
تھرتھراتی سرسراتی سنسناتی ساعتو
تھم رہو اس راستے پر شہسوار نغمہ ہے
رنگ سا یا راگ سا پہچانیو یہ باغ سا
ہو کے عالم میں یہی پروردگار نغمہ ہے
شش جہت کے اس چھتارے سے کشاکش ہی سہی
کہنے کو ان انگلیوں کو اختیار نغمہ ہے
بجھنے والے اب بجھیں گے لرزش مستانہ سے
یعنی ان افسردگاں کو اعتبار نغمہ ہے