تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط منانا
Yasir Iqbal (b. 1983)تم ٹہنیوں کی پھلجھڑیوں سے جشن شاہ بلوط منانا
شہزادے کے شگوفے کو اک شاخچۂ مضبوط بتانا
سینوں کے احراموں والے زندہ عجوبے دھڑ دھڑ دھڑکیں
نیم دلوں کے نیل کنارے تب سامان حنوط بہانا
کچھ درباری گھوڑوں پر بھگدڑ سے بڑی مصیبت یہ ہے
گلی گلی کے خرگوشوں کو حال بہت مربوط سنانا
رنگ برنگی تسخیروں کے بستر کا رومان سنبھالو
پائنتی خواہ جداگانہ ہو رکھو مگر مخلوط سرہانا
محراب و مینار و گنبد یاد کی اک تجسیم تو ہوں گے
جب تعمیر محبت کرنا ہر گوشہ مخروط بنانا
رسم و راہ بڑھی تو حسن کے ہر پہلو سے علاقہ رہے گا
خطۂ خاکی سے روزانہ غیر ضروری خطوط مٹانا
میری گمٹی پر سے ابھرے اور اس کی برجی میں ڈوبے
دل کے ستارے تیرے طلوع سے مجھ کو تیرا سقوط سہانا