ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گا
Aalam Nizami (b. 1984)ترے دماغ سے سارا فتور نکلے گا
مری وفا کا نتیجہ ضرور نکلے گا
نہ سر اٹھا کے چلو پتھروں کی بستی میں
لگے گی ٹھیس تو سارا غرور نکلے گا
تو حوصلے سے اندھیرے کا سامنا کریو
اسی اندھیرے کے پہلو سے نور نکلے گا
نظام عدل تو مرعوب مجرموں سے ہے
ہمیں یقیں ہے ہمارا قصور نکلے گا
ہیں چند روز کی مہمان الجھنیں عالمؔ
ترے سکون کا سورج ضرور نکلے گا