پاؤں کسی شور میں نہ شر میں کھلے

Yasir Iqbal (b. 1983)

پاؤں کسی شور میں نہ شر میں کھلے

نعرۂ زنجیر کی زبر میں کھلے

ہاتھ پرندے جو پھڑپھڑائے بہت

تلخ کلامیٔ خشک و تر میں کھلے

نیند کے جنگل تھے خواب گاہ میں گم

دشت سے لپٹے ہوئے نگر میں کھلے

دل تو کسی مستقر کی موج میں تھا

داغ مگر دامن سفر میں کھلے

ماتھا سجاؤں سجیلے پات سے میں

تاب ستارہ جو برگ تر میں کھلے

جسم لبوں تک بہت رسید ہوا

شاخچوں کے ذائقے ثمر میں کھلے

چٹھی برائے فروغ رنگ سمجھ

مٹھی اگر دستک سحر میں کھلے