Poetry
Poet
Meter
- خوش نمائی سے ماورا تو ہےہے اگر کوئی حق نما تو ہےZafar Awan (b. 1982)
- لہو نے بھگوئے مہاجر پرندےقطاروں میں روئے مہاجر پرندےZafar Awan (b. 1982)
- محبت ہو گئی ہے تو کیا میری خطا ہےمجھے ہی سوچتی ہے تو کیا میری خطا ہےZafar Awan (b. 1982)
- مرا کنبہ بلایا جا چکا تھامرا ماتم منایا جا چکا تھاZafar Awan (b. 1982)
- میری دشمن ہے سادگی میریکھا گئی مجھ کو عاجزی میریZafar Awan (b. 1982)
- نیزے پہ سر چڑھے گا سید کو سب پتا تھالیکن وہ سوئے مقتل بے خوف چل رہا تھاZafar Awan (b. 1982)
- ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیںصدق مقال سے ہیں یاروں کی عزتیںZafar Awan (b. 1982)
- بہت اب ہو چکا گریہ چلو اب گھر کو جاتے ہیںبہت سی باتیں کرتے ہیں بہت سا مسکراتے ہیںFaisal Malik (b. 1982)
- بیٹھا ہوں ہار کر اب اٹھانا نہیں مجھےکتنا برا ہوں میں یہ بتانا نہیں مجھےFaisal Malik (b. 1982)
- رہنے دوابھی بیچ میںFaisal Malik (b. 1982)
- سنمیری بنجر زمینوں میںFaisal Malik (b. 1982)
- کوئی شام کی آہٹ سے پہلےکوئی شام کی آہٹ سے پہلےFaisal Malik (b. 1982)
- میں اسےجیون کی آخری سرحد پرFaisal Malik (b. 1982)
- راکھ راکھ بدن لے کردھواں دھواں شگن لے کرFaisal Malik (b. 1982)
- کہا کمال لکھتے ہواحساسوں کا میری احتمال لکھتے ہوFaisal Malik (b. 1982)
- تم رونق حیات تھے جب تم نہیں رہےہونٹوں پہ وہ گزشتہ تبسم نہیں رہےYasir Shah Rashidi (b. 1982)
- کتنے مہان لوگ جہاں سے گزر گئےکیا چیز ہیں ہم آپ کہ جب وہ بھی مر گئےYasir Shah Rashidi (b. 1982)
- گرنے دے گر گئی اگر دستاردونوں ہاتھوں سے تھام دست یارYasir Shah Rashidi (b. 1982)
- آسماں کھینچ کے دھرتی سے ملا سکتا ہےمیری جانب وہ کبھی ہاتھ بڑھا سکتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھےتمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- تو میرے ساتھ ہتھیلی اٹھا نکل آئےکوئی دعا نہ سہی بد دعا نکل آئےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتیبتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- رنگ سے رنگ ملاتا ہوا جاتا ہوا توکہکشاں ایک بناتا ہوا جاتا ہوا توJahanzeb Sahir (b. 1983)
- فقیر موجی خراب حالوں کا کیا بنے گایہ عشق کرتی اداس نسلوں کا کیا بنے گاJahanzeb Sahir (b. 1983)
- کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیںعجیب لوگ ہیں الٹا سوال کرتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سےاسے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی مجھ سےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئیاس قبیلے کا بھی سردار نہیں ہے کوئیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لگے ہوئے تھے سبھی شور ہی مچانے میںجبھی تو دیر لگی آگ کو بجھانے میںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کیاس دھوپ نے مکان کی رنگت خراب کیJahanzeb Sahir (b. 1983)
- میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتاتیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتاJahanzeb Sahir (b. 1983)
- نیند سے مجھ کو جگاتا ہے چلا جاتا ہےوہ مرے خواب میں آتا ہے چلا جاتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیںہم وہ سکے ہیں جو ہر دور میں چل جاتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہےکہ اس کی باتیں ہزار سالوں کی شاعری ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ویسے تو کم ہی میاں اہل جنوں روتے ہیںدیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خوں روتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیںہم ایسے لوگ فقط راستے بناتے ہیںJahanzeb Sahir (b. 1983)
- ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کےزمیں پہ آئیں گے اک دن عذاب مٹی کےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہےابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہےJahanzeb Sahir (b. 1983)
- آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھپہلے پڑھیے تو ذرا صبر کو تفسیر کے ساتھFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- اگرچہ تم سا بنایا نہیں گیا ہوں میںمگر بنا کے مٹایا نہیں گیا ہوں میںFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- خدا کے ذکر میں مشغول ہیں جو مست پہاڑسمجھ گئے ہیں یقیناً ادائے وقت پہاڑFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- خواہشیں انتظار اور یقینوسوسے بے شمار اور یقینFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- زمین ہجر میں گردن تلک گڑا ہوا ہوںمیں تجھ کو ہار کے اب سوچ میں پڑا ہوا ہوںFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- سراب و دشت وہی ساربان تیسرا ہےسفر کے ساتھ بندھا امتحان تیسرا ہےFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- کچھ ایسا ربط مسلسل رہا شعور سے بھیکہ خوف آنے لگا عشق کے وفور سے بھیFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتاعین ممکن ہے کہ شہکار بنایا جاتاFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیےپھر مسئلوں کو کھولیے اور حل نکالیےFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہےخود محافظ مری ہوا رہی ہےFaisal Nadeem Faisal (b. 1983)
- آرائش چند پل رہی تھیپوشاک یاد گل رہی تھیYasir Iqbal (b. 1983)
- استقبال نور کیا رنگ برنگ سلیقوں سےہم نے برکھا دیوی کو دیکھا سات طریقوں سےYasir Iqbal (b. 1983)
- پانی کی دریا پرداز عبارت بھی مجہول گئیسوتوں والی بیل پھوٹنے جھڑنے میں مشغول گئیYasir Iqbal (b. 1983)