آنسوؤں سسکیوں میں آہوں میں

Tahir Baloch (b. 1983)

آنسوؤں سسکیوں میں آہوں میں

خواب دفنا دئے نگاہوں میں

ان کو کیا دشمنوں کا ڈر ہوگا

آپ ہوں جن کے خیر خواہوں میں

ہم تہی دست ہار کر تجھ کو

اب غلاموں میں ہیں نہ شاہوں میں

تھک گئے زیست کی اذیت سے

آ گئے عشق کی پناہوں میں

آج کل کچھ زوال ہے ورنہ

یوں اضافہ نہ کر گناہوں میں

چند لمحے سکون دے مجھ کو

کتنی لذت ہے تیری باہوں میں

تیرے آنے کی جب ملے گی خبر

ہم تو مارے گئے ہیں چاہوں میں