تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نے

Aalam Nizami (b. 1984)

تمام فتنوں سے خود کو بچا لیا میں نے

منافقین سے پیچھا چھڑا لیا میں نے

نہ جانے کس لئے زحمت اٹھا رہے ہیں لوگ

دراز قد بھی جب اپنا گھٹا لیا میں نے

شناخت ہو سکے جس سے فریب کاروں کی

جناب والا وہ چشمہ لگا لیا میں نے

مری انا پہ ذرا بھی کہیں جو حرف آیا

تو آسمان کو سر پر اٹھا لیا میں نے

تجھے میں ترک کروں کس طرح غزل گوئی

تجھے تو زیست کا حصہ بنا لیا میں نے

ہوئے شکار جو احباب بد گمانی کے

انہیں بھی حسن وفا سے منا لیا میں نے

مسرتوں سے بہت گھٹ رہا تھا دم عالمؔ

غم حیات کو اپنا بنا لیا میں نے