خزاں کی رت میں یہ مشغلہ تھا

Ehtisham Ali (b. 1983)

خزاں کی رت میں یہ مشغلہ تھا

میں بکھرے پتے سمیٹتا تھا

عجیب تر تھیں تمہاری یادیں

میں زندہ رہ کر نہ جی سکا تھا

چلی تھی مجھ میں اک ایسی آندھی

کہ دل کا خیمہ اکھڑ گیا تھا

برس رہی تھی یہ کیسی بارش

کہ درد مجھ میں ٹپک رہا تھا

بہا تھا آنکھوں سے میری آنسو

کہ کوئی منظر پگھل گیا تھا

رکا ہوا ہوں میں جس کی خاطر

وہ میری خاطر نہ رک سکا تھا

وہ مجھ پہ اترا عذاب بن کر

جو دل کے مندر کا دیوتا تھا