ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوں

Raaz Dehalvi (b. 1983)

ذرا سا بے وفا سا ہو گیا ہوں

تری صحبت کی یہ تاثیر ہے کیا

کوئی پتا تلک ہلتا نہیں ہے

ہوا کے پیر میں زنجیر ہے کیا

نظر تیری سے بھی کیا خوف کھانا

نظر تیری کوئی شمشیر ہے کیا

ترے لکھے کو میں سچ مان بیٹھوں

خدا کے ہاتھ کی تحریر ہے کیا