قبیلہ عشق کا میرے خلاف ہو رہا تھا
Tahir Baloch (b. 1983)قبیلہ عشق کا میرے خلاف ہو رہا تھا
روایتوں سے بڑا انحراف ہو رہا تھا
پھر ایک ہجر کا احرام لا تھمایا گیا
دیار وصل کا پہلا طواف ہو رہا تھا
قبائے زرد نے پیروں کو ڈھانپ رکھا تھا
برہنہ شاخ پہ موسم غلاف ہو رہا تھا
یہ دستکیں مری بنیاد تک ہلا رہی تھیں
کہ جسم و جان میں جیسے شگاف ہو رہا تھا
کئی بلاؤں نے گھیرے میں لے لیا تھا مجھے
کسی کی یاد کا جب اعتکاف ہو رہا تھا
یہ وقت رک گیا طاہرؔ مرے دریچے پر
سویرے ہونے کا یوں اعتراف ہو رہا تھا