Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیاآیا نہ یار پاس مرا خواب بھی گیاNabi Bakhsh Nayab
- دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلطمضموں غلط ردیف غلط قافیہ غلطNabi Bakhsh Nayab
- دست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئےخنجر بکف وہی صف قاتل میں آ گئےNadim Balkhi
- دست جنوں نے مجھ کو پریشاں بنا دیاجو چیز ہاتھ آئی گریباں بنا دیاQadr Oraizi
- کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیاکیا آسمان سے کوئی پیغام آ گیاQadr Oraizi
- زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہوکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہوراجہ نوشاد علی خان
- اب درد دل سے کہہ دو کہ چھپ کر وہیں رہےآنکھوں کے آنسوؤں سے مراسم نہیں رہےVibha Jain 'Khwaab'
- شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھVibha Jain 'Khwaab'
- دل محو انتظار کبھی ہے کبھی نہیںسوچوں کا اک حصار کبھی ہے کبھی نہیںZaheer Abbas Saer
- باتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھاتو تھا تو گفتگو کا مزا انجمن میں تھاHabeeb Jaunpuri
- کھوئے ہوئے ہیں سر کو جھکائے ہوئے ہیں آپجیسے کہ بار عشق اٹھائے ہوئے ہیں آپHabeeb Jaunpuri
- آزادیٔ ضمیر ستم گر خرید لیسر نے ہمارے قوت خنجر خرید لیKaifi Sanbhali
- یوں موسموں کے ساتھ بھی لڑنا ضرور تھالیکن شجر تھا میں تو اجڑنا ضرور تھاKaifi Sanbhali
- یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوںسورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوںKaifi Sanbhali
- دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمعچین آئے خاک گھر میں جب اتنے ضرر ہوں جمعمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- اس بت کا انتظار کبھی ہے کبھی نہیںدل اپنا بے قرار کبھی ہے کبھی نہیںرنج حیدرآبادی
- تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام راتکاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام راتسید ہمایوں میرزا حقیر
- پھیلا نہ یوں خلوص کی چادر مرے لئےکل تک تھا تیرے ہاتھ میں پتھر مرے لئےVali Madni
- سینے کے داغ ان کو دکھائے نہ جا سکےمجھ سے فسانے غم کے سنائے نہ جا سکےVali Madni
- شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہاسب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہاZabt Ansari
- کچھ بھی نہیں ہے پاس تمہاری دعا تو ہےاس شہر بے چراغ میں اک آسرا تو ہےAanand Saroop Anjum
- دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میںتنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میںBabar Zuhrab
- کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئےدرویش چل رہا ہے خسارے لیے ہوئےBabar Zuhrab
- رہتا ہے زلف یار مرے من سے من لگااے ناگ ترے ہاتھ یہ کیا خوب من لگاباقر آگاہ ویلوری
- صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سےاب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سےDaood Kaashmiri
- میں جب توہمات سے یکسر گزر گیااپنی ہی شکل دیکھ کے کیوں آج ڈر گیاDaood Kaashmiri
- آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہیدنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہیDaud Naseeb
- دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیادونوں نے اپنا اپنا مقدر اٹھا لیاDaud Naseeb
- پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہومنظر نکھار دے گی ہوا دیکھتے رہوEjaz Asif
- ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنےحیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنےEjaz Asif
- جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہیگویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہیFaiz ul Hasan Khayal
- دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہاوہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہاFaiz ul Hasan Khayal
- کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھیہم لوگ سچ کی راہ پہ چلتے ہیں آج بھیHaatif Aarifi Fatehpuri
- اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہےانسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہےIbrat Machlishahri
- آئے جو میرے دل کو تو صبر و قرار کیااس بے وفا کے قول کا ہے اعتبار کیاPaikan Chandpuri
- سارے جہاں کو حسن کا سائل بنا دیاجس دل کو تو نے دیکھ لیا دل بنا دیاParvez Anjum
- ہنستا ہے بار بار مرا یار دیکھ کرمجھ کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کرParvez Anjum
- اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگےواپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگےQaisar Abbas
- اے جان حسن افسر خوباں تمہیں تو ہومیں اک گدائے عشق ہوں سلطاں تمہیں تو ہوRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- سودائے گیسوئے سیۂ یار ہو گیاآزاد تھا جو دل سو گرفتار ہو گیاRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- اچھا ہے کیا خیال بھی ان کے خیال کاباعث وہی رہیں مرے جی کے وبال کاSaa’in Alig
- کر کر کے قید مجھ کو وہ صیاد رہ گیامیں تھا اسیر رنج سو آزاد رہ گیاSaa’in Alig
- انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میںورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میںSaadat Aabidi
- سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہےمجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہےSaadat Aabidi
- گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میںاپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میںSaadat Aabidi
- یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیںتجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیںSaadat Aabidi
- گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھیدل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھیSabiha Sumbul
- سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگکتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگYaqoob Parwaz
- کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہےآخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہےYaqoob Parwaz
- ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگگنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگYaqoob Parwaz