دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیا

Daud Naseeb

دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیا

دونوں نے اپنا اپنا مقدر اٹھا لیا

ماضی کا پھول حال کا پتھر اٹھا لیا

جو مل گیا غزل کی زمیں پر اٹھا لیا

مجبوریوں کا اس کی کچھ اندازہ کیجئے

کانٹے کو جس نے پھول سمجھ کر اٹھا لیا

اتنی چمک تھی اشک غم روزگار میں

ہر قطرے کو سمجھ کے میں گوہر اٹھا لیا

کیوں لغزش قدم کو میں اپنی دعا نہ دوں

مجھ کو کسی نے ہاتھ بڑھا کر اٹھا لیا

جب بجھ سکی نہ پیاس تو پیاسی نگاہ نے

آنکھوں میں بند کر کے سمندر اٹھا لیا

جس سے نہ اٹھ سکی کبھی اک شاخ گل نصیبؔ

حیرت ہے ایسے ہاتھ نے خنجر اٹھا لیا