ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے
Ejaz Asifہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے
حیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنے
ذرے نے آج اپنی حقیقت کو پا لیا
ذرہ نہ سرنگوں ہوا صحرا کے سامنے
اکسا رہی ہے کوئی خلش دیر سے مجھے
رکھ دل سا پھول خار تمنا کے سامنے
خلوت میں کر رہا تھا گناہوں کا اعتراف
ہونٹوں کو وا نہ کر سکا دنیا کے سامنے
آصفؔ تمام مرحلے آسان ہو گئے
ٹھہری نہ اک چٹان بھی دریا کے سامنے