یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوں

Kaifi Sanbhali

یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوں

سورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوں

جو دوستی کا فرض نبھانے میں کٹ گیا

میں خاک پر پڑا وہ محبت کا ہات ہوں

یہ تیرے میرے بیچ نہیں جنگ آخری

تو بھی ابھی حیات ہے میں بھی حیات ہوں

احباب مجھ کو چھوڑ رہے ہیں تو چھوڑ جائیں

میں آپ اپنی ذات میں اک کائنات ہوں

یہ لوگ مجھ کو زہر بنانے پہ ہیں مصر

ورنہ مزاج سے تو میں آب حیات ہوں

قطرے سے بھی ہوں کم یہ سمندر کا انکسار

قطرے کو یہ گماں کہ سمندر صفات ہوں

کیفیؔ میں جیسے اپنے بزرگوں کا ہوں عصا

بچوں کی بھی کتاب قلم ہوں دوات ہوں