یہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوں
Kaifi Sanbhaliیہ مت سمجھ کہ چاند ستاروں کے ساتھ ہوں
سورج نہیں ہے بعد میں جس کے وہ رات ہوں
جو دوستی کا فرض نبھانے میں کٹ گیا
میں خاک پر پڑا وہ محبت کا ہات ہوں
یہ تیرے میرے بیچ نہیں جنگ آخری
تو بھی ابھی حیات ہے میں بھی حیات ہوں
احباب مجھ کو چھوڑ رہے ہیں تو چھوڑ جائیں
میں آپ اپنی ذات میں اک کائنات ہوں
یہ لوگ مجھ کو زہر بنانے پہ ہیں مصر
ورنہ مزاج سے تو میں آب حیات ہوں
قطرے سے بھی ہوں کم یہ سمندر کا انکسار
قطرے کو یہ گماں کہ سمندر صفات ہوں
کیفیؔ میں جیسے اپنے بزرگوں کا ہوں عصا
بچوں کی بھی کتاب قلم ہوں دوات ہوں