کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئے

Babar Zuhrab

کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئے

درویش چل رہا ہے خسارے لیے ہوئے

کس انتظار میں ہے خدا جانے آئنہ

قبضے میں نین نقش ہمارے لیے ہوئے

گاڑی کے نیچے آ گیا اک باپ کا غرور

بچوں کے من پسند غبارے لیے ہوئے

لہریں پلٹ رہی ہیں اسے چھو کے خواب میں

دریا سمٹ رہا ہے کنارے لیے ہوئے

ہم بھی گزر رہے ہیں تمہارے فراق سے

آنکھوں میں آنسوؤں کے شرارے لیے ہوئے

سادہ مزاج لوگ سمجھتے نہیں مگر

وہ آنکھ ہے ہزار اشارے لیے ہوئے

دل دب رہا ہے بار محبت میں آج کل

ظہرابؔ خواہشوں کے سہارے لیے ہوئے