شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھ

Vibha Jain 'Khwaab'

شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھ

ہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھ

منزل نظر میں ہے نہ کوئی ہم سفر ہے ساتھ

ناکام آرزو کا یہ ذوق سفر تو دیکھ

سینہ میں اضطراب لبوں پر ہنسی لیے

مر مر کے جی رہے ہیں ہمارا ہنر تو دیکھ

یہ کیا کہ چھوڑ دی یوں ہی تخلیق کر کے بس

کچھ اور چاہتی ہے یہ دنیا ادھر تو دیکھ

خود حسن بھی ہے عشق کی بربادی پر نثار

دیکھا نہیں ہے شمع کو بجھتے اگر تو دیکھ