دل محو انتظار کبھی ہے کبھی نہیں

Zaheer Abbas Saer

دل محو انتظار کبھی ہے کبھی نہیں

سوچوں کا اک حصار کبھی ہے کبھی نہیں

خوشیوں کی جستجو میں ہوا ایسا بارہا

سر پر غموں کا بار کبھی ہے کبھی نہیں

نشہ ترے خلوص کا اک بحر بیکراں

ہلکا سا وہ خمار کبھی ہے کبھی نہیں

جس پہ گلوں کے حسن کا دار و مدار ہے

گلشن میں وہ بہار کبھی ہے کبھی نہیں

غارت ہوئے ہیں جس کے سبب اہل گلستاں

جلوؤں پہ وہ نکھار کبھی ہے کبھی نہیں

راہ وفا میں حال دل زار کی نہ پوچھ

خود پر بھی اختیار کبھی ہے کبھی نہیں

اک کشمکش میں آج کل الجھی ہے زندگی

وہ رنگ اعتبار کبھی ہے کبھی نہیں

آتے ہیں زندگی میں کئی ایسے دور بھی

مسلک میں انکسار کبھی ہے کبھی نہیں

فہرست جاں نثاراں میں خوش بخت اور ہیں

سائرؔ کا تو شمار کبھی ہے کبھی نہیں