اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

Ibrat Machlishahri

اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے

انسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہے

اپنے لہو کا رنگ بھی پہچانتی نہیں

انسان کے نصیب میں اندھوں کی نسل ہے

منصف تو فیصلوں کی تجارت میں لگ گئے

اب جانے کس سے ہم کو تقاضائے عدل ہے

دشمن کا حوصلہ کبھی اتنا قوی نہ تھا

میرے تباہ ہونے میں تیرا بھی دخل ہے

لڑتے بھی ہیں تو پیار سے منہ موڑتے نہیں

ہم سے کہیں زیادہ تو بچوں میں عقل ہے

تاریخ کہہ رہی ہے کہ چہرہ بدل گیا

انسان ہے مصر کہ وہی اپنی شکل ہے

دعویٔ خوں بہا نہ تظلم نہ احتجاج

کس بے نوائے وقت کا عبرتؔ یہ قتل ہے