جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی

Faiz ul Hasan Khayal

جب تک مزاج دوست میں کچھ برہمی رہی

گویا بجھی بجھی سی مری زندگی رہی

جس پر نگاہ لطف و کرم آپ کی رہی

حیرت سے ہر نگاہ اسے دیکھتی رہی

گو میں رہا کشاکش دوراں سے ہم کنار

لیکن مرے لبوں پہ ہنسی کھیلتی رہی

لایا ہے عشق نے مجھے ایسے مقام پر

خود آگہی رہی نہ خدا آگہی رہی

جوش جنوں نے منزل مقصود پا لیا

عقل سلیم دیکھتی ہی دیکھتی رہی

سب کچھ مجھے خیالؔ کی دنیا میں مل گیا

لیکن تمہارے حسن نظر کی کمی رہی