باتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھا
Habeeb Jaunpuriباتوں میں تھی دلیل حوالہ سخن میں تھا
تو تھا تو گفتگو کا مزا انجمن میں تھا
قرآن کی فضا میں پلا تھا ترا شعور
اسلام کا مزاج ترے بانکپن میں تھا
دل دادۂ علوم فرنگی تھا دل ترا
لیکن خیال خطۂ ارض وطن میں تھا
جہل خزاں کا دور گلوں سے تھا دور دور
جب تک ترا وجود فضائے چمن میں تھا
لکھی وہ داستان غم دجلہ و فرات
چکھا وہ ذائقہ بھی جو گنگ و جمن میں تھا
سارا سمٹ کے آ گیا تیرے کلام میں
جتنا بھی حسن لالہ و سرو و سمن میں تھا
اب اس سے بڑھ کے بس میں ترے تھا بھی کچھ نہیں
ملت کو دے دیا وہ لہو جو بدن میں تھا
راہ عمل دکھاتا رہا قوم کو مگر
تو مطمئن تھا دل ترا رنج و محن میں تھا
ہر دم مدینہ و نجف و کربلا کی فکر
تیرا کہاں جواب محبت کے فن میں تھا