دل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا
Faiz ul Hasan Khayalدل جس کا درد عشق کا حامل نہیں رہا
وہ شخص تیرے پیار کے قابل نہیں رہا
جب بھی حنائی ہاتھوں سے گیسو سنور گئے
آئینۂ بہار مقابل نہیں رہا
ہر آستاں سے لوٹ کے آنا پڑا اسے
جو تیرے در پہ آنے کے قابل نہیں رہا
محرومیاں ہی جس کا مقدر ہیں دوستو
وہ محفل نشاط کے قابل نہیں رہا
جب تم نہ تھے تو کچھ بھی نہیں تھا بہار میں
تم آ گئے تو کوئی مقابل نہیں رہا
زنداں میں شور طوق و سلاسل نہیں رہا
جب آپ مسکرائے غم دل کی بات پر
دل درد کو چھپانے کے قابل نہیں رہا
تنہائیوں کی بزم ہی اچھی رہی خیالؔ
محفل میں پر سکون کبھی دل نہیں رہا