پھیلا نہ یوں خلوص کی چادر مرے لئے
Vali Madniپھیلا نہ یوں خلوص کی چادر مرے لئے
کل تک تھا تیرے ہاتھ میں پتھر مرے لئے
پلکوں پہ کچھ حسین سے موتی سجا گیا
پھر سونی سونی شام کا منظر مرے لئے
دیوار و در سے اس کے ٹپکتی ہے تشنگی
اک دشت بے کراں ہے مرا گھر مرے لئے
خوشبو جو پیار کی مجھے دیتا تھا اب وہی
رکھتا ہے دست ناز میں خنجر مرے لئے
یہ شب بڑی طویل ہے جاؤں کہاں ولیؔ
اب بند ہو چکے ہیں سبھی در مرے لئے