صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سے

Daood Kaashmiri

صورت سے جو دکھائی دئیے تھے غریب سے

اب رشک ہر کسی کو ہے ان کے نصیب سے

پھر اس کے بعد ہم بھی جلیں طور کی طرح

بس ایک بار دیکھ لیں ان کو قریب سے

جب سنگ ریزہ ہمدم دیرینہ ہو گئے

تو تشنگی بجھا گئے جو تھے رقیب سے

بے فکر بے خبر چلا جاتا تھا اک ہجوم

تھم جاؤ اک صدا تھی وہ کس کی صلیب سے