سینے کے داغ ان کو دکھائے نہ جا سکے

Vali Madni

سینے کے داغ ان کو دکھائے نہ جا سکے

مجھ سے فسانے غم کے سنائے نہ جا سکے

ایسے نگر میں میرا مقدر ہوا مقیم

جس میں خوشی کے دیپ جلائے نہ جا سکے

ایوان صبر آج زمیں بوس ہو گیا

پلکوں میں اشک مجھ سے چھپائے نہ جا سکے

ہم نے تو خون دل سے کھلائے ہیں گلستاں

تم سے تو خار و خس بھی اگائے نہ جا سکے

گلشن جو تھا خلوص کا یکسر جھلس گیا

جب نفرتوں کے شعلے بجھائے نہ جا سکے

بار گراں اٹھاتا رہا ہوں مگر ولیؔ

احساں کسی کے مجھ سے اٹھائے نہ جا سکے