پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہو

Ejaz Asif

پھولوں سے ہوگی دھول جدا دیکھتے رہو

منظر نکھار دے گی ہوا دیکھتے رہو

لائے گی رنگ لغزش پا دیکھتے رہو

منزل بھی دے گی اپنا پتا دیکھتے رہو

ہاں بزم میں کسی کے گریبان گوش تک

پہنچے گا میرا دست صدا دیکھتے رہو

نیندوں میں کھو کے سیپیاں خوابوں کی دوستو

چننے کو ہے یہ دیدۂ وا دیکھتے رہو

کب آفتاب تازہ کی پہلی شعاع سے

ہوتی ہے چاک شب کی ردا دیکھتے رہو

اس کج ادا کی سمت بہ ایں جور مستقل

آصفؔ بہ طرز اہل وفا دیکھتے رہو