تڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام رات
سید ہمایوں میرزا حقیرتڑپا کیا جو یہ دل مضطر تمام رات
کاٹی ہے میں نے کیا کہوں کیوں کر تمام رات
اپنے مکاں پہ جب مہ پیکر نہیں ملا
پھرتا رہا رقیبوں کے گھر گھر تمام رات
لڑ کر جو مجھ سے وہ ستم آرا چلا گیا
کاٹی ہے میں نے تارے ہی گن کر تمام رات
پچھلے پہر سے آنکھ کھلی بے قرار ہوں
آیا جو خواب میں مہ انور تمام رات
اپنے مکاں سے اس نے نکالا جو رات کو
لے کر پھرا میں کاندھے پہ بستر تمام رات
اس درد دل سے میں جو کراہا کیا دلا
بے چین میرے ساتھ بنا گھر تمام رات
فرقت میں میری زندگی دشوار ہو گئی
میں کروٹیں بدلتا ہوں دن بھر تمام رات
کیوں کر نہ ناز اپنے مقدر پہ ہو حقیر
دیکھا جو خواب ساقیٔ کوثر تمام رات